ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک کے اسمبلی انتخابات پورے ملک کی توجہ کا مرکز؛ ووٹروں اورامیدواروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ

کرناٹک کے اسمبلی انتخابات پورے ملک کی توجہ کا مرکز؛ ووٹروں اورامیدواروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ

Tue, 03 Apr 2018 20:49:55    S.O. News Service

بنگلورو۔3؍اپریل(ایس او  نیوز) ۱۲مئی کو ہونے والے کرناٹکا کے اسمبلی انتخابات اس وقت پورے ملک کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے جس کے ساتھ ہی ریاست کے سبھی اسمبلی حلقوں میں انتخابات کا بخار روز بروز شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ ریاست کی  تینوں اہم سیاسی جماعتوں کانگریس ، جنتادل (ایس) اور بی جے پی کی طرف سے ان پارٹیوں کے قائدین زبردست انتخابی مہم چلانے میں مصروف  ہیں۔ اس دوران منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لئے الیکشن کمیشن بھی پوری مستعدی کے ساتھ  کام کررہاہے۔ نظم وضبط کی صورتحال کی نگرانی کے ساتھ انتخابی دھاندلیوں پر بھی  کافی سختی سے نظر رکھی جارہی ہے۔

12؍ مئی کو جب ریاستی عوام پندرھویں اسمبلی کے نمائندوں کا انتخاب کریں گے تو اس وقت توقع ہے کہ امیدواروں کی تعداد کے اعتبار سے ایک نیا ریکارڈ قائم ہوگا۔ ریاستی اسمبلی کے لئے پہلا انتخاب 1957 میں ہوا، اس وقت اسمبلی حلقوں کی تعداد 179 رہی۔ ان میں 151عام اور 27 درج فہرست ذاتوں کے لئے مختص تھے۔ جبکہ ایک حلقہ درج فہرست قبائل کے لئے مخصوص تھا۔ اس وقت انتخابی دوڑ میں 585امیدوار میدان میں اترے تھے۔ پہلے انتخاب میں ووٹروں کی تعداد ایک کروڑ تھی، اور 51فیصد پولنگ ہوئی تھی۔ 1962کے انتخاب میں اسمبلی حلقوں کی تعداد 208کردی گئی۔ اس مرحلے میں 180 عام اسمبلی حلقے 27؍ درج فہرست ذاتوں اور ایک حلقہ درج فہرست قبائل کے لئے مخصوص تھا۔ اس چناؤ میں 679 امیدوار میدان میں اترے۔ووٹروں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور یہ 1.13کروڑ تک پہنچ گئی۔ اس چناؤ میں 30 خواتین نے مقابلہ کیا اور ان میں سے 18؍ اسمبلی کے لئے منتخب ہوئیں۔

1967کے انتخاب میں اسمبلی حلقوں کی تعداد 216ہوئی ووٹرس 1.26کروڑ ہوئے۔ اور پولنگ 63 فیصد ہوئی۔ 727 امیدواروں نے اس انتخاب میں اپنی قسمت آزمائی۔1972کے انتخاب میں ووٹروں کی تعداد1.5کروڑ ہوئی امیدوار 800 رہے اور 61 فیصد عوام نے ووٹ ڈالے ۔1978 کے انتخاب میں اسمبلی حلقوں کی تعداد بڑھا کر 224 کردی گئی جو اب بھی برقرار ہے۔ اس چناؤ میں 1159 امیدوار میدان میں اترے ۔ اس وقت ووٹروں کی تعداد 179 کروڑ رہی اور 71 فیصد ووٹنگ ہوئی۔

چھٹویں اسمبلی کا انتخاب1983میں ہوا اور ووٹروں کی تعداد پہلی بار دو کروڑ سے متجاوز ہوگئی۔ اس انتخاب میں 1365امیدوار میدان میں رہے۔65 فیصد عوام نے ووٹ ڈالے۔ 1985کے وسط مدتی اسمبلی انتخاب میں ووٹروں کی تعداد2.2کروڑ ہوئی اور 67 فیصد عوام نے ووٹ دیا۔ 1989 کے اسمبلی انتخاب میں ووٹروں کی تعداد 2.86 کروڑ تک جاپہنچی اور 67فیصد عوام نے 2043 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کیا۔ 1994 کے انتخاب میں ووٹروں کی تعداد تین کروڑ سے متجاوز ہوگئی۔ اس سال 69 فیصد پولنگ ہوئی۔ 1999 میں دسویں اسمبلی کے لئے ووٹروں کی تعداد 3.42کروڑ تک جاپہنچی۔ 67.75 فیصد ووٹروں نے 1341امیدواروں کی قسمت پر مہر لگائی۔

2004کے اسمبلی انتخابات میں ریاست کے ووٹرس 3.85کروڑ تک جاپہنچے ، اس انتخاب میں 2.5کروڑ عوام نے ووٹ ڈالے، اور 1715امیدواروں کی قسمت پر اپنی مہر لگائی ۔ 2008کے دوران اسمبلی حلقوں کی ازسر نو حد بندی ہوئی اور عام زمرے میں آنے والے اسمبلی حلقوں کی تعداد 189 سے گھٹ کر 173 ہوگئی۔ اور درج فہرست ذاتوں کے لئے 33؍ اور درج فہرست قبائل کے لئے 5؍ اسمبلی حلقے مخصوص کئے گئے، اس وقت ووٹروں کی تعداد 4.03کروڑ رہی۔ اور 64فیصد عوام نے 2242 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کیا۔

2013 کے اسمبلی چناؤ میں جہاں ووٹروں کی تعداد 4.36 کروڑ تک جاپہنچی ، اس انتخاب میں ووٹنگ کے اوسط میں سدھار دیکھا گیا اور 71 فیصد عوام نے رائے دہی کرتے ہوئے 2948 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کیا۔ اب آئندہ ہونے والے انتخابات میں  امکان ہے کہ امیدواروں کی تعداد 3500تک جاپہنچے گی، جبکہ  ووٹروں کی تعداد 4.96کروڑ ہوچکی ہے۔


Share: